برف زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے
برف زار جاں کی تہہ میں کھولتے پانی کا ہے
جو بھی قصہ ہے لہو کی شعلہ سامانی کا ہے
آسماں سے روشنی اتری بھی دھندلا بھی چکی
نام روشن ہے تو بس ظلمت کی تابانی کا ہے
ریگزار لب کہ ہر سو اگ رہی ہے تشنگی
آنکھ میں منظر اچھلتے کودتے پانی کا ہے
بے سبب ہرگز نہیں دست کرم کم کم ادھر
اس کو اندازہ ہماری تنگ دامانی کا ہے
شہر ہو یا ہو بیاباں گھر ہو یا کوئی کھنڈر
سلسلہ چاروں طرف غول بیابانی کا ہے
موڑ پر پہنچے تو دیکھو گے کہ ہر منزل ہے سہل
بس یہی اک راستہ ہے جو پریشانی کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.