بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے

عدیل زیدی

بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے

عدیل زیدی

MORE BY عدیل زیدی

    بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے

    سب چھوڑ چھاڑ گھر سے نکلنا پڑا مجھے

    جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ

    انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے

    پاؤں میں آبلے تھے تھکن عمر بھر کی تھی

    رکنا تھا بیٹھنا تھا پہ چلنا پڑا مجھے

    اپنی پرکھ کے واسطے طوفاں کے درمیاں

    مضبوط کشتیوں سے اترنا پڑا مجھے

    تیری انا کے ہاتھ میں تھے تیرے فیصلے

    تو تو بدل نہ پایا بدلنا پڑا مجھے

    بے انتہا تضاد تھا دونوں کی سوچ میں

    کچھ یوں بھی راستے کو بدلنا پڑا مجھے

    یہ بھی ہوا کہ بادل نا خواستہ کبھی

    زندہ حقیقتوں سے مکرنا پڑا مجھے

    یکجا رہا اک عمر مگر تیری دید کو

    مانند مشت خاک بکھرنا پڑا مجھے

    آغاز اپنے بس میں نہ انجام ہی عدیلؔ

    اک زندگی گزار کے مرنا پڑا مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY