پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا

عباس تابش

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا

    جانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا

    تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کر لے جا

    مجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا

    یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری

    درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا

    تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے

    بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

    یہ ترے چاہنے والے بھی عجب ہیں جاناں

    عشق کرتے ہیں کہ ہوتا نہیں دیکھا جاتا

    یہ تیرے بعد کھلا ہے کہ جدائی کیا ہے

    مجھ سے اب کوئی اکیلا نہیں دیکھا جاتا

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 599)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY