بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے

رفیعہ شبنم عابدی

بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے

رفیعہ شبنم عابدی

MORE BYرفیعہ شبنم عابدی

    بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے

    لوگ جذبات میں ہو جاتے ہیں پاگل کتنے

    روز خوشبو کے مقدر میں رہی خود سوزی

    اپنی ہی آگ میں جلتے رہے صندل کتنے

    سبز موسم نہ یہاں پھر سے پلٹ کر آیا

    ہو گئے زرد مرے گاؤں کے پیپل کتنے

    خود کشی قتل انا ترک تمنا بیراگ

    زندگی تیرے نظر آنے لگے حل کتنے

    بارشیں ہوتی ہیں جس وقت بھری آنکھوں کی

    راکھ ہو جاتے ہیں جلتے ہوئے آنچل کتنے

    ہر قدم کوئی درندہ کوئی خونخوار عقاب

    شہر کی گود میں آباد ہیں جنگل کتنے

    بے رخی اس کی رلائے گی لہو کیا شبنمؔ

    زخم کھاتے ہی رہے ہم تو مسلسل کتنے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : Mausam bhiigii aa.nkho.n kaa (Pg. 40)
    • Author : Rafia Shabnam Abidi
    • مطبع : Hassan Publications, Mumbai (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY