بلا عنوان افسانا کہے گا تم بھی سن لینا
بلا عنوان افسانا کہے گا تم بھی سن لینا
خرد کی بات دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
رموز عشق دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
وہ کعبہ کو صنم خانہ کہے گا تم بھی سن لینا
دل غم آشنا جب تنگ آکر زندگانی سے
شب فرقت کا افسانا کہے گا تم بھی سن لینا
فدا کیوں جان کر دیتا ہے بڑھ کر شمع محفل پر
کبھی یہ راز پروانا کہے گا تم بھی سن لینا
جو بہکی بہکی باتوں سے محبت میں نہ باز آئے
تو عالم تم کو دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
بہت سے راز اس سے گلستاں کے منکشف ہوں گے
اک ایسی بات ویرانہ کہے گا تم بھی سن لینا
نہ بھولیں گے قیامت تک بھی ارباب چمن جن کو
وہ باطن آج دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
یہ ہونے کو تو دیوانہ ہے لیکن راز کی باتیں
بانداز کلیمانہ کہے گا تم بھی سن لینا
ابھی کیا ہے ابھی ہر ایک ساتھی ظلم کی باتیں
بانداز رفیقانہ کہے گا تم بھی سن لینا
یہی رند زیادہ نوش غریق بے خودی ہو کر
ابھی شیشے کو پیمانہ کہے گا تم بھی سن لینا
رضیؔ میرا مذاق عاشقی جس نے اڑایا ہے
وہی اب اپنا دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.