بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

منصور عثمانی

بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

منصور عثمانی

MORE BYمنصور عثمانی

    بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو

    پاگل ہوئی ہے اب کے ہوا جاگتے رہو

    سجدوں میں ہے خلوص تو پھر چاندنی کے ساتھ

    اترے گا آنگنوں میں خدا جاگتے رہو

    الفاظ سو نہ جائیں کتابوں کو اوڑھ کر

    دانشوران قوم ذرا جاگتے رہو

    کیسا عجیب شور ہے بستی میں آج کل

    ہر گھر سے آ رہی ہے صدا جاگتے رہو

    پہلے تو اس کی یاد نے سونے نہیں دیا

    پھر اس کی آہٹوں نے کہا جاگتے رہو

    پھولوں میں خوشبوؤں میں ستاروں میں چاند میں

    کھولے گا کوئی بند قبا جاگتے رہو

    تم بھی سنو کہ شہر خموشاں میں رات دن

    سناٹے دے رہے ہیں صدا جاگتے رہو

    جب بھی قلم کو میرے کبھی آئیں جھپکیاں

    آنکھوں نے آنسوؤں سے لکھا جاگتے رہو

    منصورؔ رت جگے تو مقدر ہیں آپ کا

    جب تک جلے سخن کا دیا جاگتے رہو

    مأخذ :
    • کتاب : Kashmakash (Pg. 25)
    • Author : Mansoor Usmani
    • مطبع : Najma House, Baradari, Moradabad (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY