کینوس پر پوری سچائی کے جب آتے ہیں ہم
کینوس پر پوری سچائی کے جب آتے ہیں ہم
رہتے ہیں منظر میں یا تحلیل ہو جاتے ہیں ہم
اپنی پرچھائیں کا کرتے ہیں تعاقب عمر بھر
اور اپنا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں ہم
زندگی کا تھا جو سورج ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا
سایہ سایہ روشنی کو ڈھونڈنے جاتے ہیں ہم
آپ کے اندر ہے جو اک سانپ وہ مجھ میں بھی ہے
بس اسی کا زہر دشت جاں میں پھیلاتے ہیں ہم
ایک مصرعہ ایک فقرہ تازہ پڑھنے کے لیے
عہد حاضر کا کتب خانہ اٹھا لاتے ہیں ہم
ایک کالی نظم اک کالی غزل کے واسطے
کڑوے رس کی بوتلیں کتنی ہی پی جاتے ہیں ہم
کچھ نہیں معلوم ہم کو یہ ہمیں معلوم ہے
بات یہ کہنے کی ہے یہ کہہ نہیں پاتے ہیں ہم
اک غبار و گرد کا عالم ہے وصفیؔ دور تک
سوکھتا جاتا ہے دریا ڈوبتے جاتے ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.