Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چاہنے کی نہ انتہا رکھئے

باسط عظیم

چاہنے کی نہ انتہا رکھئے

باسط عظیم

چاہنے کی نہ انتہا رکھئے

جان سے بھی اسے سوا رکھئے

عشق کرنے کا گر ارادہ ہو

گھر لٹانے کا حوصلہ رکھئے

پھول مہکیں گے اس کی یادوں کے

تازہ یادوں کا سلسلہ رکھئے

کوئی بھی رت ہو کوئی موسم ہو

زخم دل کا ہرا بھرا رکھئے

یہ پری زادگاں ہیں شعلہ نژاد

ان سے ملیے تو فاصلہ رکھئے

خیمۂ جاں یہ خوف شب خوں ہے

کم سے کم خود کو جاگتا رکھیے

بھول جائیں ہر ایک قصے کو

یاد لیکن وہ حادثہ رکھیے

ہر جگہ سے زمیں سرکتی ہے

پاؤں رکھیے تو کس جگہ رکھیے

ہر مہم میں بشرط پسپائی

واپسی کا بھی راستہ رکھئے

شاعروں اور گداگروں میں آپ

فرق تھوڑا سا تو روا رکھیے

جو بھی کرنا ہے آج کر لیجے

کام فردا پہ کیا اٹھا رکھئے

کوئی آئے نہ آئے دل میں عظیمؔ

دل کا دروازہ پر کھلا رکھئے

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے