چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

MORE BYسعید قیس

    چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

    تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے

    حادثہ جو بھی ہو چپ چاپ گزر جاتا ہے

    دل سے اچھا کوئی رستہ نہیں دیکھا میں نے

    پھر دریچے سے وہ خوشبو نہیں پہنچی مجھ تک

    پھر وہ موسم کبھی دل کا نہیں دیکھا میں نے

    موم کا چاند ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہوں

    شہر میں دھوپ کا میلہ نہیں دیکھا میں نے

    چڑھتے سورج کی شعاعوں نے مجھے پالا ہے

    جو اتر جائے وہ دریا نہیں دیکھا میں نے

    پھر مرے پاؤں کی زنجیر ہلا دے کوئی

    کب سے اس شہر کا رستہ نہیں دیکھا میں نے

    مجھ کو پانی میں اترنے کی سزا دیتا ہے

    وہ سمجھتا ہے کہ دریا نہیں دیکھا میں نے

    قیسؔ کہتے ہیں فقیروں پہ بہت بھونکتا ہے

    اپنے ہم سایے کا کتا نہیں دیکھا میں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY