چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر

جلیل مانک پوری

چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر

    مجھے مار ڈالا مری جان ہو کر

    یہ صورت ہوئی ہے کہ آئینہ پہروں

    مرے منہ کو تکتا ہے حیران ہو کر

    جواں ہوتے ہی لے اڑا حسن تم کو

    پری ہو گئے تم تو انسان ہو کر

    بگڑنے میں زلف رسا کی بن آئی

    لیے رخ کے بوسے پریشان ہو کر

    کرم میں مزہ ہے ستم میں ادا ہے

    میں راضی ہوں جو تجھ کو آسان ہو کر

    جدا سر ہوا پر ہوئے ہم نہ ہلکے

    رہی تیغ گردن پر احسان ہو کر

    نہ آخر بچا پردۂ راز دشمن

    ہوا چاک میرا گریبان ہو کر

    حواس آتے جاتے رہے روز وعدہ

    تری یاد ہو کر مری جان ہو کر

    بتوں کو جگہ دل میں دیتے ہو توبہ

    جلیلؔ ایسی باتیں مسلمان ہو کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY