چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

ملک زادہ منظور احمد

چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

ملک زادہ منظور احمد

MORE BY ملک زادہ منظور احمد

    چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

    جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے

    الجھن گھٹن ہراس تپش کرب انتشار

    وہ بھیڑ ہے کہ سانس بھی لینا محال ہے

    آوارگی کا حق ہے ہواؤں کو شہر میں

    گھر سے چراغ لے کے نکلنا محال ہے

    بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے ہر اک وجود

    آئینہ پوچھتا ہے کہاں خد و خال ہے

    جن میں یہ وصف ہو کہ چھپا لیں ہر ایک داغ

    ان آئنوں کی آج بڑی دیکھ بھال ہے

    پرچھائیاں قدوں سے بھی آگے نکل گئیں

    سورج کے ڈوب جانے کا اب احتمال ہے

    کشکول چشم لے کے پھرو تم نہ در بدر

    منظورؔ قحط جنس وفا کا یہ سال ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites