چبھتی رہی سینے میں کوئی بات مسلسل
چبھتی رہی سینے میں کوئی بات مسلسل
پہلو ہی بدلتے رہے ہم رات مسلسل
ہوتے ہیں تصور میں وہ دن رات مسلسل
رہتی ہے مری ان سے ملاقات مسلسل
آغاز میں ہلکی سی چبھن دل میں تھی ناصح
آہستہ سے بڑھتی گئی پھر بات مسلسل
مشکل ہوا جاتا ہے اسے پہلو میں رکھنا
کرنے لگا دل ان کی شکایات مسلسل
مل جاتا خدا بھی جو کبھی ڈھونڈتے اس کو
جس طرح سے ڈھونڈا تمہیں دن رات مسلسل
سعدیؔ ہوا دشوار مری جان کا بچنا
ہونے لگیں اب ان کی عنایات مسلسل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.