دم بھر کی خوشی باعث آزار بھی ہوگی
دم بھر کی خوشی باعث آزار بھی ہوگی
اس راہ میں سایہ ہے تو دیوار بھی ہوگی
صدیوں سے جہاں جس کے تعاقب میں رواں ہے
وہ ساعت صد رنگ گرفتار بھی ہوگی
رنگوں کی ردا اوڑھ کے اس ریگ رواں پر
اتری ہے جو شب وہ شب دیدار بھی ہوگی
اٹھلائے گا پلکوں پہ کبھی صبح کا تارا
بیدار کبھی نرگس بیمار بھی ہوگی
کہتا ہے مرے کان میں خوشبو کا پیامی
منہ بند کلی مائل گفتار بھی ہوگی
سائے سے لپٹ جائیں گے پاؤں سے بہ ہر گام
رسوائی کچھ اپنی سر بازار بھی ہوگی
اے شب نہ کٹے گی ترے سینے کی سیاہی
اک شوخ کرن مفت گنہ گار بھی ہوگی
سنتے ہیں کہ ہر صبح کے ہاتھوں میں رشیدؔ اب
زہراب میں ڈوبی ہوئی تلوار میں ہوگی
- کتاب : Fasiil-e-lab (Pg. 79)
- Author : Rashiid Qaisarani
- مطبع : Aiwan-e-urdu Taimuriya karachi (1973)
- اشاعت : 1973
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.