درد بڑھتے بڑھتے آپ اپنا مداوا ہو گیا
درد بڑھتے بڑھتے آپ اپنا مداوا ہو گیا
آنکھ سے آنسو بہے تو جی بھی ہلکا ہو گیا
ان سے قاصد صرف یہ کہنا بصد عجز و نیاز
درد جو جاں بخش تھا اب جان لیوا ہو گیا
میں نے خود سے بھی چھپایا تھا تری الفت کا راز
اے نگاہ ناز تجھ پر کیسے افشا ہو گیا
اپنے بیمار محبت کا کرو تم کچھ علاج
ورنہ پھر کہتے پھرو گے ہائے یہ کیا ہو گیا
بزم میں اخترؔ مجھی پر تو نہ تھی ان کی نگاہ
میں نے ان آنکھوں میں کیا دیکھا مجھے کیا ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.