درد دیں گے وہ سسکیاں دیں گے
ہم ہیں کاغذ وہ قینچیاں دیں گے
جگنوؤں نے شراب پی لی ہے
اب یہ سورج کو گالیاں دیں گے
آ گئی عشق پہ وہ نوبت اب
ڈاکئے تیری چٹھیاں دیں گے
میرے بیمار زرد چہرے کو
اپنے ہونٹھوں کی سرخیاں دیں گے
ہاں سنا ہے وہ پھول جیسی ہے
اس کو تحفہ میں تتلیاں دیں گے
آپ جو بیٹھنے نہیں دیتے
آپ اک روز کرسیاں دیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.