درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب

ہادی مچھلی شہری

درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب

ہادی مچھلی شہری

MORE BYہادی مچھلی شہری

    درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب

    میری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب

    وجد میں روح ہے اور رقص میں ہے پائے طلب

    دیکھیے حال مرے شوق کا منزل کے قریب

    رہ گیا تھا جو کبھی پائے طلب میں چبھ کر

    اب وہی خار تمنا ہے رگ دل کے قریب

    اب وہ پیری میں کہاں عہد جوانی کی امنگ

    رنگ موجوں کا بدل جاتا ہے ساحل کے قریب

    جذبۂ شوق بھی کچھ کام نہ آیا ہادیؔ

    ناتوانی نے بٹھایا مجھے منزل کے قریب

    مآخذ
    • کتاب : Jadeed Shora-e-Urdu (Pg. 523)
    • Author : Dr. Abdul Wahid
    • مطبع : Feroz sons Printers Publishers and Stationers

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY