Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دشت پر ہول کی دیوار گرانے کے لئے

نسیم اجمل

دشت پر ہول کی دیوار گرانے کے لئے

نسیم اجمل

MORE BYنسیم اجمل

    دشت پر ہول کی دیوار گرانے کے لئے

    اک دھماکا ہی سہی دل کو ہلانے کے لئے

    روز اول سے جسے روکے کھڑی ہیں راہیں

    راستہ چاہئے اس شخص کو لانے کے لئے

    رونق دید تو مشکل تھی مگر ایسے ہی

    اس کو آواز لگانی تھی بلانے کے لئے

    راستہ بھول گیا ہوں میں خود اپنے گھر کا

    بھولے بھٹکوں کو کوئی راہ دکھانے کے لئے

    کیا خبر تھی وہی دیوار گرے گی مجھ پر

    جس کی تصویر اتاری تھی سجانے کے لئے

    بھولے بسرے کبھی خوابوں میں چلے آنا تھا

    بے کسی دشت محبت کی بڑھانے کے لئے

    اس نے دروازے پہ ایک درد سجا رکھا ہے

    گھر کے ماحول کو رنگین بنانے کے لئے

    روشنی جس کی ستاروں کا جگر چاک کرے

    اک دیا ایسا جلانا ہے زمانے کے لئے

    خون مہکے تو کبھی درد کی بوندیں ٹپکیں

    شعر اک چاہئے اجملؔ کے فسانے کے لئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے