دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

افتخار عارف

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

    کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

    میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

    مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

    میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے

    میں گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو

    وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے

    گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

    کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں

    میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو

    میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے

    وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو

    وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے

    مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    نعمان شوق

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY