Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

بیخود دہلوی

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

بیخود دہلوی

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

جو ادھر دل میں ہے یا رب وہ ادھر پیدا کر

دود دل عشق میں اتنا تو اثر پیدا کر

سر کٹے شمع کی مانند تو سر پیدا کر

پھر ہمارا دل گم گشتہ بھی مل جائے گا

پہلے تو اپنا دہن اپنی کمر پیدا کر

کام لینے ہیں محبت میں بہت سے یا رب

اور دل دے ہمیں اک اور جگر پیدا کر

تھم ذرا اے عدم آباد کے جانے والے

رہ کے دنیا میں ابھی زاد سفر پیدا کر

جھوٹ جب بولتے ہیں وہ تو دعا ہوتی ہے

یا الٰہی مری باتوں میں اثر پیدا کر

آئینہ دیکھنا اس حسن پہ آسان نہیں

پیشتر آنکھ مری میری نظر پیدا کر

صبح فرقت تو قیامت کی سحر ہے یا رب

اپنے بندوں کے لیے اور سحر پیدا کر

مجھ کو روتا ہوا دیکھیں تو جھلس جائیں رقیب

آگ پانی میں بھی اے سوز جگر پیدا کر

مٹ کے بھی دوری گلشن نہیں بھاتی یا رب

اپنی قدرت سے مری خاک میں پر پیدا کر

شکوۂ درد جدائی پہ وہ فرماتے ہیں

رنج سہنے کو ہمارا سا جگر پیدا کر

دن نکلنے کو ہے راحت سے گزر جانے دے

روٹھ کر تو نہ قیامت کی سحر پیدا کر

ہم نے دیکھا ہے کہ مل جاتے ہیں لڑنے والے

صلح کی خو بھی تو اے بانئ شر پیدا کر

مجھ سے گھر آنے کے وعدے پر بگڑ کر بولے

کہہ دیا غیر کے دل میں ابھی گھر پیدا کر

مجھ سے کہتی ہے کڑک کر یہ کماں قاتل کی

تیر بن جائے نشانہ وہ جگر پیدا کر

کیا قیامت میں بھی پردہ نہ اٹھے گا رخ سے

اب تو میری شب یلدا کی سحر پیدا کر

دیکھنا کھیل نہیں جلوۂ دیدار ترا

پہلے موسیٰ سا کوئی اہل نظر پیدا کر

دل میں بھی ملتا ہے وہ کعبہ بھی اس کا ہے مقام

راہ نزدیک کی اے عزم سفر پیدا کر

ضعف کا حکم یہ ہے ہونٹ نہ ہلنے پائیں

دل یہ کہتا ہے کہ نالے میں اثر پیدا کر

نالے بیخودؔ کے قیامت ہیں تجھے یاد رہے

ظلم کرنا ہے تو پتھر کا جگر پیدا کر

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

00:00/00:00
نعمان شوق

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے