دینے والے یہ زندگی دی ہے
دینے والے یہ زندگی دی ہے
یا مرے ساتھ دل لگی کی ہے
ہم کو معلوم ہی نہ تھا یہ راز
موت کا نام زندگی بھی ہے
آشیانوں کی خیر ہو یا رب
صحن گلشن میں روشنی سی ہے
ہم نے برسوں جگر جلایا ہے
پھر کہیں دل میں روشنی کی ہے
آپ سے دوستی کا اک مفہوم
ساری دنیا سے دشمنی بھی ہے
لوگ مرتے ہیں زندگی کے لئے
ہم نے مر مر کے زندگی کی ہے
ہم کو مارا ہے عاشقی نے جلیسؔ
لوگ کہتے ہیں خود کشی کی ہے
- کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 104)
- مطبع : Raghu Nath suhai ummid
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.