دھڑکا ہے راہ غم میں مرا دل جگہ جگہ
دھڑکا ہے راہ غم میں مرا دل جگہ جگہ
دعویٰ ہوا ہے ضبط کا باطل جگہ جگہ
کھویا گیا ہوں راہ وفا میں کچھ اس طرح
پھرتی ہے ڈھونڈھتی مجھے منزل جگہ جگہ
بس اک نگاہ لطف کی حسرت لئے ہوئے
پھرتا ہوں بن کے حسن کا سائل جگہ جگہ
طوفان بحر غم میں یوں ہی ڈوب ڈوب کر
پیدا کئے ہیں عشق نے ساحل جگہ جگہ
جیتے بنے ہے غم میں نہ مرتے بنے ہے اب
درپیش ہے بس اک یہی مشکل جگہ جگہ
رنگ شفق یہ تابش انجم یہ بوئے گل
ہے خون آرزو مرا شامل جگہ جگہ
دیکھے تو کیسے حسن حقیقت نشاں کو آنکھ
پردے ہیں احتیاط کے حائل جگہ جگہ
ہے ذرہ ذرہ خاک کا اک حشر درکنار
عرفان غم ہوا مجھے حاصل جگہ جگہ
عالم وہ شوق کا ہے کہ رکتے نہیں قدم
مانا کہ غم ہے دل سے مقابل جگہ جگہ
اس جستجوئے حسن نے آوارہ کر دیا
پھرتا ہے مجھ کو لے کے مرا دل جگہ جگہ
ساحرؔ مجھے ملال کسی سے ہو کس لئے
میرے سخن کے آج ہیں قائل جگہ جگہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.