دھواں بنا کے فضا میں اڑا دیا مجھ کو

نظیر باقری

دھواں بنا کے فضا میں اڑا دیا مجھ کو

نظیر باقری

MORE BY نظیر باقری

    دھواں بنا کے فضا میں اڑا دیا مجھ کو

    میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیا مجھ کو

    ترقیوں کا فسانہ سنا دیا مجھ کو

    ابھی ہنسا بھی نہ تھا اور رلا دیا مجھ کو

    میں ایک ذرہ بلندی کو چھونے نکلا تھا

    ہوا نے تھم کے زمیں پر گرا دیا مجھ کو

    سفید سنگ کی چادر لپیٹ کر مجھ پر

    فصیل شہر پہ کس نے سجا دیا مجھ کو

    کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے

    سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

    نہ جانے کون سا جذبہ تھا جس نے خود ہی نظیرؔ

    مری ہی ذات کا دشمن بنا دیا مجھ کو

    مآخذ:

    • Book : Etemaad (Pg. 19)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY