دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا

وزیر آغا

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا

وزیر آغا

MORE BY وزیر آغا

    دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا

    اب کہاں آئے گا وہ لوٹ کے آنے والا

    ریت پر چھوڑ گیا نقش ہزاروں اپنے

    کسی پاگل کی طرح نقش مٹانے والا

    سبز شاخیں کبھی ایسے تو نہیں چیختی ہیں

    کون آیا ہے پرندوں کو ڈرانے والا

    عارض شام کی سرخی نے کیا فاش اسے

    پردۂ ابر میں تھا آگ لگانے والا

    سفر شب کا تقاضا ہے مرے ساتھ رہو

    دشت پر ہول ہے طوفان ہے آنے والا

    مجھ کو در پردہ سناتا رہا قصہ اپنا

    اگلے وقتوں کی حکایات سنانے والا

    شبنمی گھاس گھنے پھول لرزتی کرنیں

    کون آیا ہے خزانوں کو لٹانے والا

    اب تو آرام کریں سوچتی آنکھیں میری

    رات کا آخری تارا بھی ہے جانے والا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY