دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے

جلیل مانک پوری

دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے

    آزاد ہر خیال سے مست خیال ہے

    کہہ دو یہ کوہ کن سے کہ مرنا نہیں کمال

    مر مر کے ہجر یار میں جینا کمال ہے

    فتویٰ دیا ہے مفتیٔ ابر بہار نے

    توبہ کا خون بادہ کشوں کو حلال ہے

    آنکھیں بتا رہی ہیں کہ جاگے ہو رات کو

    ان ساغروں میں بوئے شراب وصال ہے

    برساؤ تیر مجھ پہ مگر اتنا جان لو

    پہلو میں دل ہے دل میں تمہارا خیال ہے

    آنکھیں لڑا کے ان سے ہم آفت میں پڑ گئے

    پلکوں کی ہر زبان پہ دل کا سوال ہے

    بت کہہ دیا جو میں نے تو اب بولتے نہیں

    اتنی سی بات کا تمہیں اتنا خیال ہے

    میں دامن نیاز میں اشک چکیدہ ہوں

    کوئی اٹھا کے دیکھ لے اٹھنا محال ہے

    پوچھا جو ان سے جانتے ہو تم جلیلؔ کو

    بولے کہ ہاں وہ شاعر نازک خیال ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 128)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY