دل بہت مصروف تھا کل آج بے کاروں میں ہے
دل بہت مصروف تھا کل آج بے کاروں میں ہے
سات پردوں میں جو رہتا تھا وہ بازاروں میں ہے
خاک کے پتلے فلک کی سرحدوں کو چھو چکے
اور جسے انسان کہتے ہیں ابھی غاروں میں ہے
لاج رکھ لیتے ہیں میری منہ پہ کچھ کہتے نہیں
دشمنی کا کچھ سلیقہ تو مرے پیاروں میں ہے
سب کو دیکھا اور کسی کو دیکھ کر ٹوٹا نہیں
آئنہ شاید ابھی اپنے پرستاروں میں ہے
دھوپ کیسی تھی کہ میرے ہاتھ کالے کر گئی
تیرگی کا رنگ شاید نور کے دھاروں میں ہے
سب صدائیں لفظ ہیں لفظوں کے پیچھے کچھ نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ کوئی سر بھی دستاروں میں ہے
بر سر پیکار دونوں ہیں نتیجہ کچھ نہیں
جوش ہے دریاؤں میں اور صبر دیواروں میں ہے
خیر و شر کی مشعلوں کو تو بجھاتا کیوں نہیں
میں تو کیا ہوں اک فرشتہ بھی گنہ گاروں میں ہے
دیکھتے کیا ہو کہ خود منظر تمہیں تکنے لگا
بیچتے کیا ہو کہ یوسف بھی خریداروں میں ہے
کوئی بھی منزل نہیں اپنی کشش دونوں طرف
پاؤں مٹی میں گڑے ہیں آنکھ سیاروں میں ہے
اب حقیقت جان کر شہزادؔ کیا لینا مجھے
وجہ غازہ ہی سہی شعلہ تو رخساروں میں ہے
- کتاب : Deewar pe dastak (Pg. 672)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.