دل بے قرار کیوں نہ ہو نخچیر کی طرح
دل بے قرار کیوں نہ ہو نخچیر کی طرح
چبھتی ہے گل رخوں کی نظر تیر کی طرح
رانجھے کی طرح قید ہوں اپنے مکان میں
چپکے سے دیکھتا ہے کوئی ہیر کی طرح
پوچھا بھی اس نے حال ہمارا تو غیر سے
یعنی ہے التفات بھی تعزیر کی طرح
دونوں کا ایک حال ہے پرساں نہیں کوئی
ہے شام غم بھی عاشق دلگیر کی طرح
حیران ہوں میں صورت آئینہ اے شکیلؔ
بیٹھا ہے سامنے کوئی تصویر کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.