دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا

سخی لکھنوی

دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا

سخی لکھنوی

MORE BY سخی لکھنوی

    دل ہی میرا فقط ہے مطلب کا

    یا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کا

    قیس و فرہاد سے میں ہوں واقف

    ہو چکا ہے مقابلہ سب کا

    کھائی ہے اک نئی مٹھائی آج

    بوسہ پایا ہے یار کے لب کا

    مے کدہ میں شراب پیتے ہیں

    یہ پتا ہے ہمارے مشرب کا

    شیعہ سنی میں تو بکھیڑے ہیں

    نام لوں کس کے آگے مذہب کا

    ملک الموت سے کہو پھر جائیں

    جیتے جی مر چکا ہوں میں کب کا

    آپ فرمائیں ہجر کا احوال

    میں کروں ذکر وصل کی شب کا

    صبح کو جھونکے نیند کے کیسے

    کہیں جاگا ہوا ہے تو شب کا

    اس کے کوچہ کی بھیک چاہتے ہیں

    شوق جاگیر کا نہ منصب کا

    رہے دن بھر وہ مدعی میرے

    یاد کر کے معاملہ شب کا

    برگ گل آ میں تیرے بوسے لوں

    تجھ میں ہے ڈھنگ یار کے لب کا

    نقد دل دیتا ہوں تو کہتے ہیں

    واہ ایسا سخیؔ ہے تو کب کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY