دن کو دن رات کو میں رات نہ لکھنے پاؤں
دن کو دن رات کو میں رات نہ لکھنے پاؤں
ان کی کوشش ہے کہ حالات نہ لکھنے پاؤں
ہندو کو ہندو مسلمان کو لکھوں مسلم
کبھی ان دونوں کو اک ساتھ نہ لکھنے پاؤں
بس قلم بند کئے جاؤں میں ان کی ہر بات
دل سے جو اٹھتی ہے وہ بات نہ لکھنے پاؤں
سوچ تو لیتا ہوں کیا لکھنا ہے پر لکھتے سمے
کانپتے کیوں ہے مرے ہاتھ نہ لکھنے پاؤں
جیت پر ان کی لگا دوں میں قصیدوں کی جھڑی
مات کو ان کی مگر مات نہ لکھنے پاؤں
شکر ہی شکر لکھے جاؤں میں ان کے حق میں
کبھی ان سے میں شکایات نہ لکھنے پاؤں
اپنے ہونٹوں پہ نہ لا پاؤں میں اپنے نالے
اپنی ہی آنکھوں کی برسات نہ لکھنے پاؤں
جن سوالوں سے تبسم میں خلل پڑتا ہو
کبھی وہ تلخ سوالات نہ لکھنے پاؤں
خود کو ماضی میں رکھوں حال میں رہتے ہوئے بھی
نئے وقتوں کے خیالات نہ لکھنے پاؤں
ان کی کوشش ہے کلیجہ ہو مرا پتھر کا
ان کی کوشش ہے میں جذبات نہ لکھنے پاؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.