دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

لئیق اکبر سحاب

دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

لئیق اکبر سحاب

MORE BYلئیق اکبر سحاب

    دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا

    ہاتھ دشمن سے جا ملایا تھا

    آستینوں میں سانپ پالے تھے

    دودھ خود ہی انہیں پلایا تھا

    زخم کاری بہت لگا دل پر

    تیر اپنوں نے اک چلایا تھا

    برق مانگی نہیں فلک تجھ سے

    ہم نے خرمن کو خود جلایا تھا

    دل کو زخموں سے چور ہونا تھا

    عشق کی راہ پر چلایا تھا

    پوچھتے ہو دھواں ہیں کیوں آنکھیں

    جاں کی بستی میں دل جلایا تھا

    میں تو بھولا نہیں سحابؔ اس کو

    اس نے کیسے مجھے بھلایا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے