دعا تمہیں وہ بڑی لگے گی جہان بھر کی سبھی عطا سے
دعا تمہیں وہ بڑی لگے گی جہان بھر کی سبھی عطا سے
جب اک بھکاری جو بھیک لے کر نواز دے گا تمہیں دعا سے
وہ جس پتا کی تمام باتیں بری لگے ہیں جہان بھر کو
مگر یہ سمجھو تمہارا جیون ہرا بھرا ہے اسی پتا سے
کبھی مشقت سے یار تم بھی گھڑے میں کنکڑ تو بھر کے دیکھو
ابھی نہیں پر کبھی تو پانی بہے گا اوپر کسی گھڑا سے
نہ مل سکے پر مجھے شکایت نہیں ہے کوئی اے عشق تم سے
مگر مری جاں یہاں سے جا کر لڑوں گا پہلے میں اس خدا سے
رہا نہیں اب یہاں پہ کچھ بھی مرے مطابق تو کیوں رہوں میں
تو کیوں مجھے اب فریبی دنیا بچا رہی ہے کسی دوا سے
مجھے بچانے کی چاہ ہے تو اسے بلا کر یقیں دلاؤ
ترے حوالے ترا یہ روگی یہ ٹھیک ہوگا تری سدا سے
اگرچہ پنکھا یہ چاہتا ہے کہ اس پہ کوئی تو لاش لٹکے
اتار دو پھر اگر نہیں ہے ذرا بھی مطلب اسے ہوا سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.