دنیا بدل بھی سکتی ہے کوشش تو یار کر
دنیا بدل بھی سکتی ہے کوشش تو یار کر
خود پر تو اعتبار ذرا ایک بار کر
دل دے رہا تھا اس کو تبھی ہوش نے کہا
اتنی حسین چیز کا مت کاروبار کر
جھوٹا اگر ہو یار تو ہر وعدہ توڑ دے
سچا لگے تو جان بھی اس پر نثار کر
اب تک ترے حجاب سے تھی بے قراریاں
اب بے حجاب ہو کے ذرا بے قرار کر
میں عام آدمی ہوں نہیں پیر اولیا
میری ہر ایک بات پہ مت اعتبار کر
دنیا نے ایسا زخم دیا بھر سکا نہ جو
دنیا کو اپنا زخم دکھا شرمسار کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.