دنیا میں رہ کے دنیا میں شامل نہیں ہوں میں
دنیا میں رہ کے دنیا میں شامل نہیں ہوں میں
لگتا ہے اس جہان کے قابل نہیں ہوں میں
چھینٹے مری قبا پہ ہیں میرے ہی خون کے
مقتول ہوں میں دوستو قاتل نہیں ہوں میں
کس حق سے روک لوں تجھے او جانے والے میں
ساتھی ترا سہی تری منزل نہیں ہوں میں
خیرات جان کر مجھے دیتے ہو دید کیوں
عاشق ہوں میں جناب کا سائل نہیں ہوں میں
قسمت میں میری لکھی ہیں دردر کی ٹھوکریں
گرد سفر ہوں رونق محفل نہیں ہوں میں
ملنا ہے خاک میں مجھے کہتا ہے جسم یہ
دیتا ہے دل سدا کہ فقط گل نہیں ہوں میں
فکر سخن کو چھوڑ کے آتا ہے کیا مجھے
ہرچند اس ہنر میں بھی کامل نہیں ہوں میں
یوں تو کمی نہیں ہے کسی چیز کی مجھے
ہرگز ترے بغیر مکمل نہیں ہوں میں
اگلا قدم اٹھا تو صداؔ دل سے پوچھ کر
اب عقل کی صلاح کا قائل نہیں ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.