دشمن ہے کون اور مرا یار کون ہے
دشمن ہے کون اور مرا یار کون ہے
کھلتا نہیں کہ برسر پیکار کون ہے
دریائے آگہی میں بھی مجھ پر نہیں کھلا
کس کی مجھے تلاش ہے اس پار کون ہے
دل کی حرا میں آ کے خود عقدہ کشائی کر
تجھ ایسا اور صاحب کردار کون ہے
ہر ایک اپنی سوچ کے صحرا میں ہے رواں
مصروف کار سب ہیں تو بے کار کون ہے
یوں چشم التفات سے کر مجھ کو فیضیاب
سب پوچھتے پھریں کہ یہ اقرارؔ کون ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.