دور اور پاس کے ستائے ہیں
دور اور پاس کے ستائے ہیں
ہم نے ہجرت کے دکھ اٹھائے ہیں
جانے کس پار جا کے اتریں گے
خواب کے جو بھی در بنائے ہیں
اپنی مٹی سے دور ہو کر ہی
ہجر کے دکھ سمجھ میں آئے ہیں
ان کے آنے سے گلستانوں نے
خوشبوؤں کے کنول کھلائے ہیں
منزلوں کو پتہ نہیں ہم نے
راستوں کے فریب کھائے ہیں
کسی پہلو قرار آیا نہیں
دل نے قصے بہت سنائے ہیں
ہم کو عاشقؔ خبر نہیں اس کی
تیر اپنوں نے کب چلائے ہیں
- کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 402)
- مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.