Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فیصلہ یہ ہو نہ پایا روز کی باتوں کے بعد

مشتاق احمد مشتاق

فیصلہ یہ ہو نہ پایا روز کی باتوں کے بعد

مشتاق احمد مشتاق

فیصلہ یہ ہو نہ پایا روز کی باتوں کے بعد

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

بے یقینی خوف دونوں میں رہے گا کب تلک

مل سکیں گے کھل کے ہم کتنی ملاقاتوں کے بعد

آپ نے جو کچھ کہا جتنا کہا سب مستند

بات کوئی کیا کرے گا آپ کی باتوں کے بعد

ایک اک مہرہ سنبھل کر رکھ بساط عدل پر

آج بازی ہاتھ آئی ہے کئی ماتوں کے بعد

اپنے حصے کے چراغوں کی لوؤں کو دیکھ کر

صبح کی امید جاگی ہے کئی راتوں کے بعد

بعد میرے خون کاغذ پر نہ ٹپکے گا کبھی

ہاتھ کوئی شل نہیں ہوگا مرے ہاتھوں کے بعد

خود کو پھر مشتاقؔ سناٹا بنانا ٹھیک ہے

بات جب بنتی نظر آئے نہیں باتوں کے بعد

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے