Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فقط یوں ہی تو نہیں ناز آفریں ہے وہ

محمد راشد اطہر

فقط یوں ہی تو نہیں ناز آفریں ہے وہ

محمد راشد اطہر

MORE BYمحمد راشد اطہر

    فقط یوں ہی تو نہیں ناز آفریں ہے وہ

    مری نگاہ سے دیکھو بہت حسیں ہے وہ

    ہے مثل عقدہ مری ذات سے وہ پیوستہ

    جہاں جہاں میں نہیں ہوں وہیں وہیں ہے وہ

    تم اس کے رنگ رخ و لب کی بات کرتے ہو

    خود اپنی آتش تیور سے آتشیں ہے وہ

    کبھی نہ سرد ہوا میری ذات کا دوزخ

    کسی نے سچ ہی کہا ہے جہنمیں ہے وہ

    ہے اس اثر سے ہی خوں ریز چشم ناز اس کی

    کہ مدتوں سے رگوں میں پنہ گزیں ہے وہ

    وہ کیسے آئنۂ انہماک میں آئے

    کہ لمحہ بھر کو بھی مجھ سے جدا نہیں ہے وہ

    جب اس کو دیکھ کے آتا ہے یاد رب مجھ کو

    تو کیوں کہوں کہ حریف خدا و دیں ہے وہ

    وہ جس طرح نظر انداز کر رہا ہے مجھے

    تو لگ رہا ہے کہ غافل ذرا نہیں ہے وہ

    مٹا چکا ہوں سبھی نقش اس کے قدموں کے

    مگر یہ وہم ہے اب بھی یہیں کہیں ہے وہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے