فقط یوں ہی تو نہیں ناز آفریں ہے وہ
فقط یوں ہی تو نہیں ناز آفریں ہے وہ
مری نگاہ سے دیکھو بہت حسیں ہے وہ
ہے مثل عقدہ مری ذات سے وہ پیوستہ
جہاں جہاں میں نہیں ہوں وہیں وہیں ہے وہ
تم اس کے رنگ رخ و لب کی بات کرتے ہو
خود اپنی آتش تیور سے آتشیں ہے وہ
کبھی نہ سرد ہوا میری ذات کا دوزخ
کسی نے سچ ہی کہا ہے جہنمیں ہے وہ
ہے اس اثر سے ہی خوں ریز چشم ناز اس کی
کہ مدتوں سے رگوں میں پنہ گزیں ہے وہ
وہ کیسے آئنۂ انہماک میں آئے
کہ لمحہ بھر کو بھی مجھ سے جدا نہیں ہے وہ
جب اس کو دیکھ کے آتا ہے یاد رب مجھ کو
تو کیوں کہوں کہ حریف خدا و دیں ہے وہ
وہ جس طرح نظر انداز کر رہا ہے مجھے
تو لگ رہا ہے کہ غافل ذرا نہیں ہے وہ
مٹا چکا ہوں سبھی نقش اس کے قدموں کے
مگر یہ وہم ہے اب بھی یہیں کہیں ہے وہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.