غم اٹھانے کے واسطے دم ہے
غم اٹھانے کے واسطے دم ہے
زندگی ہے اگر تو کیا غم ہے
کہتے ہو کچھ کہو کہوں کیا خاک
جانتا ہوں مزاج برہم ہے
گریہ بے اثر کی کچھ حد بھی
ہم ہیں اور آج چشم پر نم ہے
کیا نئے دوستوں سے بگڑی آج
دشمنوں کا کچھ اور عالم ہے
مجھ کو دیکھا تو غیر سے یہ کہا
عمر اس نوجوان کی کم ہے
گر خوشی ہے تو وصل کی ہے خوشی
غم اگر ہے تو ہجر کا غم ہے
سنتے ہیں داغؔ کل وہ آئے تھے
بارے اب تو سلوک باہم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.