گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں

اصغر گونڈوی

گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں

اصغر گونڈوی

MORE BYاصغر گونڈوی

    گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں

    خون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاں

    ہے یہ طریق عاشقی چاہیئے اس میں بے خودی

    اس میں چناں چنیں کہاں اس میں اگر مگر کہاں

    زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا

    ہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں

    کیجیے آج کس طرح دوڑ کے سجدۂ نیاز

    یہ بھی تو ہوش اب نہیں پاؤں کہاں ہے سر کہاں

    ہائے وہ دن گزر گئے جوشش اضطراب کے

    نیند قفس میں آ گئی اب غم بال و پر کہاں

    ہوش و خرد کے پھیرے میں عمر عزیز صرف کی

    رات تو کٹ گئی یہاں دیکھیے ہو سحر کہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY