غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر

MORE BYبھارتیندو ہریش چندر

    غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں

    ابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیں

    ذرا دیکھو تو اے اہل سخن زور صناعت کو

    نئی بندش ہے مجنوں نور کے سانچے میں ڈھلتے ہیں

    برا ہو عشق کا یہ حال ہے اب تیری فرقت میں

    کہ چشم خونچکاں سے لخت دل پیہم نکلتے ہیں

    ہلا دیں گے ابھی اے سنگ دل تیرے کلیجے کو

    ہماری آہ آتش بار سے پتھر پگھلتے ہیں

    ترا ابھرا ہوا سینہ جو ہم کو یاد آتا ہے

    تو اے رشک پری پہروں کف افسوس ملتے ہیں

    کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے

    تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں

    رساؔ حاجت نہیں کچھ روشنی کی کنج مرقد میں

    بجائے شمع یاں داغ جگر ہر وقت جلتے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Bhartendu Samagr (Pg. 269)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY