گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں

گلزار

گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں

گلزار

MORE BY گلزار

    گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں

    گلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیں

    جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں

    ہمارا دل ہے اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں

    اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شاید

    اک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں

    تمہاری خشک سی آنکھیں بھلی نہیں لگتیں

    وہ ساری چیزیں جو تم کو رلائیں، بھیجی ہیں

    سیاہ رنگ چمکتی ہوئی کناری ہے

    پہن لو اچھی لگیں گی گھٹائیں بھیجی ہیں

    تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں

    سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

    اکیلا پتا ہوا میں بہت بلند اڑا

    زمیں سے پاؤں اٹھاؤ ہوائیں بھیجی ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Yaar Julahe (Pg. 142)
    • Author : Gulzar
    • مطبع : Vaniprakashan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY