گریز پا ہے نیا راستہ کدھر جائیں

جمال اویسی

گریز پا ہے نیا راستہ کدھر جائیں

جمال اویسی

MORE BYجمال اویسی

    گریز پا ہے نیا راستہ کدھر جائیں

    چلو کہ لوٹ کے ہم اپنے اپنے گھر جائیں

    نہ موج تند ہے کچھ ایسی جس سے کھیلیں ہم

    چڑھے ہوئے ہیں جو دریا کہو اتر جائیں

    عجب قرینے کے مجنوں ہیں ہم کہ رہتے ہیں چپ

    نہ خاک دشت اڑائیں نہ اپنے گھر جائیں

    جبیں ہے خاک سے ایسی لگی کہ اٹھتی نہیں

    جنون سجدہ اگر ہو چکا تو مر جائیں

    زمانہ تجھ سے یہ کہنا ہے مر چکے ہم لوگ

    اب اپنی لاش ترے بازوؤں میں دھر جائیں

    ہمیں بچے ہیں یہاں آخر الزماں لیکن

    سبھوں کو اپنا تعارف دیں در بہ در جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY