ہائے عالم وہ اس سے رخصت کا
ایک منظر تھا بس قیامت کا
کام سارا خراب کرنے میں
دخل ہے صرف میری عجلت کا
میں مروت میں مارا جاتا ہوں
کیا کروں اپنی اس طبیعت کا
مجھ سے کیسے نباہ کیجئے گا
میں تو بندہ ہوں بس ضرورت کا
گوشہ گیری مجھے غنیمت ہے
شوق مجھ کو نہیں ہے شہرت کا
کوئی بتلائے شیخ صاحب کو
کیا تقاضا ہے آدمیت کا
معذرت میں اٹھا نہیں سکتا
بار اب آپ کی امانت کا
آج اک آدمی ملا تھا مجھے
ہو بہو آپ جیسی صورت کا
ماں مجسم دعا ہے میرے لئے
باپ ہے سائبان شفقت کا
مجھ سے کچھ بوالہوس ہیں جن سے وسیمؔ
نام بدنام ہے محبت کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.