Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہاں یہ سچ ہے کہ وہ ہر دل میں مکیں ہوتا ہے

عارف دہلوی

ہاں یہ سچ ہے کہ وہ ہر دل میں مکیں ہوتا ہے

عارف دہلوی

MORE BYعارف دہلوی

    ہاں یہ سچ ہے کہ وہ ہر دل میں مکیں ہوتا ہے

    یہ غلط ہے کہ وہ ہوتا ہی نہیں ہوتا ہے

    تیرا ہی حسن نمایاں ہے ہر اک انساں میں

    ہر بشر میں ترے ہونے کا یقین ہوتا ہے

    اور بڑھ جاتا ہے کچھ شوق طلب رہرو کا

    جب مسافر کوئی منزل کے قریب ہوتا ہے

    حسن کیا چیز ہے نظروں کا فریب رنگیں

    دیکھیے شوق سے جس کو وہ حسیں ہوتا ہے

    چپکے چپکے جو ہوا کرتی ہیں دل سے باتیں

    دل کے پردے میں کوئی پردہ نشیں ہوتا ہے

    اس کے دیدار کا ہر شخص طلب گار نہ ہو

    سامنے سب کے کوئی پردہ نہیں ہوتا ہے

    جیسے مرجھائی ہوئی سی ہو کلی گلشن میں

    عشق میں ایسا ہر اک قلب حزیں ہوتا ہے

    منہ سے اقرار کرو ہاں تو کہو بولو تو

    وصل کا وعدہ اشاروں سے نہیں ہوتا ہے

    شاہ بھی ہیں اسی دنیا میں گدا بھی عارفؔ

    کوئی سائل تو کوئی تخت نشیں ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے