ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے

افتخار نسیم

ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے

افتخار نسیم

MORE BYافتخار نسیم

    ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے

    ہے بہت لمبا سفر یوں تو نہ ڈرتا جائے

    جی میں ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہرحال مجھے

    جس کو مرنا ہے وہ چپ چاپ ہی مرتا جائے

    خود کو مضبوط بنا رکھے پہاڑوں کی طرح

    ریت کا آدمی اندر سے بکھرتا جائے

    سرخ پھولوں کا نہیں زرد اداسی کا سہی

    رنگ کچھ تو مری تصویر میں بھرتا جائے

    مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے

    کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

    گھر کی دیوار کو اتنا بھی تو اونچا نہ بنا

    تیرا ہمسایہ ترے سائے سے ڈرتا جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY