ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

احمد مشتاق

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

    یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو

    تھا جو سینے میں چراغ دل پر خوں نہ رہا

    چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو

    دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں

    کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

    خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

    تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

    نگۂ ناز نہ ملتے ہوئے گھبرا ہم سے

    ہم محبت نہیں کہنے کے شناسائی کو

    دل ہے نیرنگی ایام پہ حیراں اب تک

    اتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY