ہاتھ تیرے نہ لگتا تو نایاب تھا
ہاتھ تیرے نہ لگتا تو نایاب تھا
یوں تو میں بھی حسیناؤں کا خواب تھا
اس نے چھوڑا تو دل میرا سیماب تھا
آنکھ بھیگی تھی اشکوں کا سیلاب تھا
اب تو پھر سے ہے بچپن کی خواہش مجھے
میں کبھی اس جوانی کو بیتاب تھا
اک حسیں گیت جیسی تھی یہ زندگی
اور میں اس میں جیسے کے مضراب تھا
میں تو غربت سے مرجھا گیا ہوں وجیہؔ
ورنہ اک دور تھا جب میں شاداب تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.