ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

الطاف حسین حالی

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

الطاف حسین حالی

MORE BYالطاف حسین حالی

    ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

    اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

    ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور

    ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں

    یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر

    تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں

    اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق

    رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں

    بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کا

    خط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں

    کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر

    اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں

    ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور

    عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں

    ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی

    دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

    حالیؔ نشاط نغمہ و مے ڈھونڈھتے ہو اب

    آئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY