ہے سفر بے حد ضروری وہ بھی گہری دھوپ میں
ہے سفر بے حد ضروری وہ بھی گہری دھوپ میں
اس پہ اتراتی ہے یہ ظالم دوپہری دھوپ میں
دیکھیے ان پوکھروں میں رقص کرتی زندگی
کیسے یہ بچے نہاتے ہیں سنہری دھوپ میں
راستے ویران ہیں اب اپنی منزل کا پتہ
کس سے پوچھیں کس سے جانیں گونگی بہری دھوپ میں
سارے جھگڑے گاؤں ہی میں بیٹھ کر سلجھا لیے
کون اتنی دور جائے گا کچہری دھوپ میں
اس کھنڈر میں آتے ہیں میرے سوا کچھ راہگیر
کچھ پرندے چلچلاتی سی دوپہری دھوپ میں
آج شاخوں سے بغاوت کا صلہ بھی مل گیا
بیٹھی ہے تنہا اکیلی اک گلہری دھوپ میں
- کتاب : آوازوں کا روشن دان (Pg. 73)
- Author : کلدیپ کمار
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2019)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.