ہے اس کا حق یہ ہو پر ماتما سے جس کی لاگ
ہے اس کا حق یہ ہو پر ماتما سے جس کی لاگ
کسی بھی شخص کی میراث تو نہیں بیراگ
خموش بیٹھو نہ تم رکھ کے ہاتھ پر یوں ہاتھ
بناؤ جہد مسلسل سے آپ اپنے بھاگ
کیا فریب محبت سے فرش والوں نے
برستی ہے جو فلک سے مخاصمت کی آگ
نشاط و غم کا عجب امتزاج ہے ان میں
یہ میرے سانس ہی میرے وجود کا ہیں راگ
یہ تیرے عزم کو منزل سے قبل ڈس لیں گے
مسافتوں میں اگر ہم سفر ہیں خوف کے راگ
تمام شہر کے افراد سو گئے سائرؔ
مرے ضمیر کی آواز ہے مسلسل جاگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.