ہم جو مل بیٹھیں تو یک جان بھی ہو سکتے ہیں
ہم جو مل بیٹھیں تو یک جان بھی ہو سکتے ہیں
پورے اپنے سبھی ارمان بھی ہو سکتے ہیں
تجھ سے اس طرح پہ آ پہنچا ہے رشتہ اپنا
بن بلائے ترے مہمان بھی ہو سکتے ہیں
ہم ترے نام کی جپتے نہیں مالا ہی فقط
ہم ترے نام پہ قربان بھی ہو سکتے ہیں
دل میں آنے کی بھلا آپ کو دعوت میں دوں
گھر کے مالک کبھی مہمان بھی ہو سکتے ہیں
بت کافر کی پرستش پہ کوئی قید نہیں
پوجنے والے مسلمان بھی ہو سکتے ہیں
بے رخی تو نے بھی برتی جو خدایا ان سے
تجھ سے برہم ترے انسان بھی ہو سکتے ہیں
آج جو گردش دوراں کا اڑاتے ہیں مذاق
کل وہی لوگ پریشان بھی ہو سکتے ہیں
تو جو سمجھے مرے ارمانوں کی اہمیت کو
میرے ارماں ترے ارمان بھی ہو سکتے ہیں
جب خطا کرتے تھے اس وقت نہ سوچا اے چرخؔ
ہم سر حشر پشیمان بھی ہو سکتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.